10 مئی 2012 - 19:30

يمن کے عوام نے دارالحکومت صنعا سميت ملک کے کئي شہروں ميں مظاہرے کئے ہيں-

ابنا:  مظاہرين ملک کے فوج کے ڈھانچے ميں اصلاح  اور سابق حکومت کي باقيات کو حکومت سے بے دخل کئے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے- مظاہرين سابق ڈکٹيٹر عبداللہ صالح کے اثاثے منجمد کئے جانے، اس کے رشتہ داروں اور ساتھيوں کے خلاف مقدمہ چلانے کے علاوہ تمام سياسي قيديوں کي رہائي کے حق ميں نعرے لگا رہے تھے-يہ مظاہرے ايسے وقت ميں ہوئے ہيں جب جنوبي يمن ميں فوج اور القاعدہ عناصر کي درميان جاري جھڑپوں کے نتيجے ميں حالات بدستور کشيدہ ہيں- فوج اور القاعدہ عناصر کے درميان جھڑپوں ميں تينتس فوجي ہلاک ہوگئے ہيں جبکہ اٹھائيس يمني فوجيوں کو القاعدہ عناصر نے پکڑ ليا ہےواضح رہے کہ خليج فارس تعاون کونسل کے منصوبے کے تحت يمن کے ڈکٹيٹر عبداللہ صالح نے عدالتي تحفظ کے بدلے ملک کا اقتدار اپنے نائب عبدربہ منصورہادي  کے حوالے کرديا تھا- يمن کے عوام اور سياسي جماعتيں نئي حکومت کو آمريت کا تسلسل قرار ديتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کررہي ہيں......../169